🇵🇰 FA · subject

FA Urdu (Compulsory) Syllabus

The Urdu (Compulsory) syllabus for FA in full: 4 chapters and 12 topics, every one listed below, plus 50 Urdu (Compulsory) flashcards with answers.

4Chapters
12Topics
50Flashcards

Urdu (Compulsory) syllabus: all 4 chapters

Expand any chapter to see its topics and sub-topics.

  1. نثر (Prose)

    3 topics
    • اسباق و مضامین
    • خاکہ نگاری
    • انشائیہ
  2. نظم (Poetry)

    3 topics
    • غزل
    • نظم
    • اقبالؒ کا کلام
  3. غزلیات

    2 topics
    • اساتذہ کی غزلیں
    • تشریح اور مرکزی خیال
  4. قواعد و انشاء

    4 topics
    • محاورات و ضرب الامثال
    • خط نویسی و درخواست
    • مضمون نویسی
    • کہانی نویسی

FA Urdu (Compulsory) flashcards — 50 questions with answers

  1. اسباق و مضامین کے ضمن میں سبق اور مضمون میں کیا فرق ہے؟

    سبق نصاب میں شامل وہ متن ہے جو پڑھایا جاتا ہے (نثر یا نظم)، جبکہ مضمون کسی موضوع پر تسلسل کے ساتھ لکھی گئی نثری تحریر ہے جس میں مصنف اپنے خیالات بیان کرتا ہے۔

  2. نثر کی بنیادی طور پر کتنی اقسام ہیں اور وہ کون سی ہیں؟

    نثر کی دو بنیادی اقسام ہیں: (1) افسانوی نثر (کہانی، ناول، افسانہ، ڈراما) اور (2) غیر افسانوی نثر (مضمون، خط، سفرنامہ، سوانح، انشائیہ، خاکہ)۔

  3. خاکہ نگاری کی تعریف کیا ہے؟

    خاکہ نگاری وہ صنفِ نثر ہے جس میں کسی شخصیت کے ظاہری و باطنی خدوخال، عادات، مزاج اور انفرادیت کو مختصر اور دلچسپ انداز میں لفظوں کے ذریعے یوں پیش کیا جائے کہ پڑھنے والے کے سامنے اس کی مکمل تصویر آ جائے۔

  4. خاکہ نگاری کی بنیادی خصوصیات کیا ہیں؟

    اختصار، شخصیت کی انفرادیت کا بیان، ظرافت و شگفتگی، جزئیات نگاری، غیر جانبداری، سچائی اور کردار کے ظاہری و باطنی پہلوؤں کو ابھارنا اس کی بنیادی خصوصیات ہیں۔

  5. اردو میں خاکہ نگاری کے چند مشہور نام بتائیں۔

    مولوی عبدالحق، رشید احمد صدیقی ("گنجہائے گراں مایہ")، فرحت اللہ بیگ، شوکت تھانوی، مرزا فرحت اللہ بیگ اور مولانا ابوالکلام آزاد خاکہ نگاری کے مشہور نام ہیں۔

  6. انشائیہ کی تعریف کیا ہے؟

    انشائیہ نثر کی وہ صنف ہے جس میں مصنف کسی موضوع پر آزادانہ، ذاتی اور غیر رسمی انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے؛ اس میں مزاح، طنز اور انفرادی نقطۂ نظر نمایاں ہوتا ہے اور کوئی پابندی یا ترتیب لازم نہیں۔

  7. انشائیہ اور مضمون میں بنیادی فرق کیا ہے؟

    مضمون موضوع پر مرتکز، منظم اور معلوماتی ہوتا ہے جبکہ انشائیہ موضوع سے زیادہ مصنف کی ذات پر مرتکز، غیر رسمی، آزاد اور بے ترتیب ہوتا ہے جس میں شخصیت کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔

  8. اردو انشائیہ نگاری کا بانی کسے کہا جاتا ہے؟

    سر سید احمد خان اور ان کے رفقاء نے ابتدا کی، لیکن باقاعدہ فنی انشائیہ کے فروغ میں وزیر آغا کو بنیادی حیثیت حاصل ہے؛ انھیں جدید اردو انشائیے کا بانی کہا جاتا ہے۔

  9. غزل کی لغوی اور اصطلاحی تعریف کیا ہے؟

    غزل کے لغوی معنی "عورتوں سے باتیں کرنا یا عشق کی باتیں کرنا" ہیں۔ اصطلاح میں غزل وہ صنفِ سخن ہے جس کے سب اشعار ایک ہی بحر اور قافیہ ردیف میں ہوں اور ہر شعر اپنے مفہوم میں مکمل اور خود مختار ہو۔

  10. غزل کے پہلے شعر کو کیا کہتے ہیں اور اس کی خاصیت کیا ہے؟

    غزل کے پہلے شعر کو "مطلع" کہتے ہیں؛ اس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ اور ردیف آتی ہے۔ اگر غزل میں دو مطلع ہوں تو دوسرے کو "حسنِ مطلع" کہتے ہیں۔

  11. غزل کے آخری شعر کو کیا کہتے ہیں؟

    غزل کے آخری شعر کو "مقطع" کہتے ہیں، جس میں عموماً شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے۔

  12. قافیہ اور ردیف میں کیا فرق ہے؟

    قافیہ وہ ہم آواز یا ہم وزن لفظ ہے جو شعر کے آخر میں بار بار بدل کر آتا ہے، جبکہ ردیف وہ لفظ یا الفاظ ہیں جو قافیے کے بعد ہر شعر میں بغیر تبدیلی کے دہرائے جائیں۔

  13. شعر کے دو مصرعوں کے نام کیا ہیں؟

    شعر کے پہلے مصرعے کو "مصرع اولیٰ" اور دوسرے مصرعے کو "مصرع ثانی" کہتے ہیں۔

  14. مطلع، مقطع اور تخلص کی تعریف ایک سطر میں دیں۔

    مطلع: غزل کا پہلا شعر جس کے دونوں مصرعوں میں قافیہ ردیف ہو؛ مقطع: آخری شعر جس میں شاعر کا تخلص ہو؛ تخلص: شاعر کا فرضی یا قلمی نام جو وہ شعر میں استعمال کرے۔

  15. نظم کی تعریف کیا ہے اور وہ غزل سے کیسے مختلف ہے؟

    نظم وہ صنفِ سخن ہے جس میں تمام اشعار ایک ہی مرکزی خیال یا موضوع کے گرد ہوں اور ان میں تسلسل و ربط پایا جائے۔ غزل کے برعکس نظم کے اشعار باہم مربوط ہوتے ہیں اور ایک ہی مضمون کو آگے بڑھاتے ہیں۔

  16. نظم کی بڑی اقسام کون سی ہیں؟

    نظم کی بڑی اقسام: پابند نظم، آزاد نظم، نظمِ معریٰ (بلینک ورس)، مسلسل نظم، مثنوی، قصیدہ، مرثیہ، رباعی اور مسدس وغیرہ ہیں۔

  17. پابند نظم اور آزاد نظم میں کیا فرق ہے؟

    پابند نظم میں بحر، قافیہ اور ردیف کی مکمل پابندی ہوتی ہے اور مصرعے ہم وزن ہوتے ہیں؛ آزاد نظم میں بحر تو ایک ہوتی ہے مگر مصرعوں کی لمبائی اور قافیہ کی پابندی نہیں ہوتی۔

  18. مرثیہ کسے کہتے ہیں؟

    مرثیہ وہ نظم ہے جس میں کسی کی موت پر رنج و غم کا اظہار کیا جائے؛ اردو میں خاص طور پر واقعۂ کربلا اور شہدائے کربلا کے غم میں لکھے گئے مرثیے مشہور ہیں، جیسے میر انیس اور مرزا دبیر کے مرثیے۔

  19. قصیدہ کی تعریف اور اس کے بنیادی اجزا کیا ہیں؟

    قصیدہ وہ نظم ہے جس میں کسی کی مدح یا تعریف کی جائے۔ اس کے اجزا ہیں: تشبیب (ابتدائیہ)، گریز، مدح، اور دعا (مقطع/دعائیہ حصہ)۔

  20. مثنوی کیا ہے اور اس کے قافیے کا نظام کیا ہے؟

    مثنوی وہ صنف ہے جس میں ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں مگر ہر شعر کا قافیہ الگ ہوتا ہے؛ یہ طویل قصے اور داستان بیان کرنے کے لیے موزوں ہے، جیسے مولوی میر حسن کی "سحرالبیان"۔

Show the other 30 Urdu (Compulsory) flashcards
  1. علامہ اقبالؒ کا پورا نام اور تخلص کیا تھا؟

    علامہ محمد اقبال؛ ابتدا میں ان کا تخلص "اقبال" ہی رہا۔ وہ مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق اور حکیم الامت کے القاب سے مشہور ہیں۔

  2. اقبالؒ کے اردو شعری مجموعوں کے نام بتائیں۔

    بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم، اور ارمغانِ حجاز (جس میں اردو و فارسی دونوں شامل ہیں) اقبالؒ کے اردو شعری مجموعے ہیں۔

  3. اقبالؒ کی شاعری کا مرکزی پیغام کیا ہے؟

    اقبالؒ کی شاعری کا مرکزی پیغام "خودی" کا تصور، مسلمانوں کی بیداری، عملِ پیہم، عشقِ رسولؐ، وحدتِ امت اور مردِ مومن کی تشکیل ہے۔

  4. اقبالؒ کے تصورِ "خودی" سے کیا مراد ہے؟

    خودی سے مراد اپنی ذات کی پہچان، خود اعتمادی، خود شناسی اور انسان کے باطنی جوہر کو بیدار کر کے اسے اللہ کی صفات کا مظہر بنانا ہے؛ خودی کی تکمیل سے انسان "مردِ مومن" بنتا ہے۔

  5. اقبالؒ کی مشہور نظم "شکوہ" اور "جوابِ شکوہ" کس مجموعے میں شامل ہیں؟

    یہ دونوں نظمیں اقبالؒ کے پہلے اردو مجموعے "بانگِ درا" میں شامل ہیں۔

  6. اقبالؒ نے فارسی میں کون سی مشہور تصانیف لکھیں؟

    اسرارِ خودی، رموزِ بے خودی، پیامِ مشرق، زبورِ عجم، جاوید نامہ اور پسِ چہ باید کرد فارسی میں ان کی مشہور تصانیف ہیں۔

  7. "اساتذہ کی غزلیں" سے کیا مراد ہے اور اساتذہ شعرا کون ہیں؟

    اس سے مراد کلاسیکی دور کے بڑے اور معیاری شعرا کی غزلیں ہیں جنھیں فنِ شاعری میں سند کی حیثیت حاصل ہے، جیسے میر تقی میر، مرزا غالب، خواجہ میر درد، مومن خان مومن اور ابراہیم ذوق۔

  8. "خدائے سخن" کس شاعر کا لقب ہے اور کیوں؟

    میر تقی میر کو "خدائے سخن" کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی غزل میں سادگی، دردمندی، سوز و گداز اور زبان کی روانی کمال درجے کی ہے۔

  9. مرزا غالب کی غزل کی نمایاں خصوصیت کیا ہے؟

    غالب کی غزل میں فکر کی گہرائی، فلسفیانہ انداز، معنی آفرینی، ندرتِ خیال اور مشکل پسندی نمایاں ہے؛ انھوں نے غزل کو خارجی حسن کے ساتھ فکری بلندی بھی عطا کی۔

  10. مومن خان مومن کی غزل کس موضوع کے لیے مشہور ہے؟

    مومن کی غزل خاص طور پر عشق و محبت اور معاملاتِ عشق کی نازک بیانی کے لیے مشہور ہے؛ ان کا مشہور شعر "تم میرے پاس ہوتے ہو گویا" اسی کی مثال ہے۔

  11. تشریح کسے کہتے ہیں؟

    تشریح کسی شعر یا اقتباس کے مفہوم، مطلب، شاعر کے خیال اور فنی و لسانی خوبیوں کو آسان زبان میں کھول کر بیان کرنے کا نام ہے، تاکہ اس کا مکمل مطلب واضح ہو جائے۔

  12. مرکزی خیال سے کیا مراد ہے؟

    مرکزی خیال کسی نظم، غزل یا تحریر کا وہ بنیادی، جامع پیغام یا مرکزی نقطہ ہے جس کے گرد پوری تحریر گھومتی ہے؛ اسے مختصراً اپنے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔

  13. تشریح لکھنے کے بنیادی اجزا یا اقدامات کیا ہیں؟

    تشریح میں عموماً یہ شامل ہوتے ہیں: شاعر/مصنف کا نام و حوالہ، شعر/اقتباس کا سیاق و سباق، آسان مفہوم کی وضاحت، مشکل الفاظ کے معانی، اور فنی و شعری خوبیوں کا بیان۔

  14. محاورہ کی تعریف کیا ہے؟

    محاورہ ایسے دو یا زائد الفاظ کا مجموعہ ہے جو اپنے لغوی (حقیقی) معنی کے بجائے مجازی (غیر حقیقی) معنی میں استعمال ہو، جیسے "آنکھیں چرانا" یعنی نظریں بچانا یا شرمانا۔

  15. ضرب المثل (کہاوت) کی تعریف کیا ہے؟

    ضرب المثل یا کہاوت وہ مکمل اور مشہور جملہ ہے جو کسی تجربے، حکمت یا اخلاقی سبق پر مبنی ہو اور عوام میں زبان زدِ عام ہو، جیسے "اونٹ کے منہ میں زیرہ"۔

  16. محاورہ اور ضرب المثل میں بنیادی فرق کیا ہے؟

    محاورہ نامکمل جملہ یا فقرہ ہوتا ہے جو جملے میں صرف کر کے استعمال ہوتا ہے اور اس کے معنی مجازی ہوتے ہیں؛ جبکہ ضرب المثل ایک مکمل جملہ ہوتا ہے جو کسی نصیحت یا تجربے کو بیان کرتا ہے اور جوں کا توں استعمال ہوتا ہے۔

  17. محاورے "آستین کا سانپ" کا مطلب کیا ہے؟

    "آستین کا سانپ" کا مطلب ہے ایسا چھپا ہوا دشمن جو بظاہر دوست یا اپنا ہو مگر اندر سے نقصان پہنچانے والا ہو۔

  18. کہاوت "نیم حکیم خطرۂ جان" کا مفہوم کیا ہے؟

    اس کہاوت کا مفہوم ہے کہ ادھورے علم یا ناقص مہارت رکھنے والا شخص فائدے کے بجائے نقصان پہنچاتا ہے۔

  19. رسمی (سرکاری/دفتری) خط کے بنیادی اجزا کیا ہیں؟

    رسمی خط کے اجزا: بھیجنے والے کا پتہ و تاریخ، مکتوب الیہ کا عہدہ و پتہ، عنوان (موضوع)، آغازیہ کلمات (جناب عالی/جنابِ من)، اصل مضمون، اختتامی کلمات، اور دستخط و نام شامل ہیں۔

  20. غیر رسمی (ذاتی) خط کے بنیادی اجزا کیا ہیں؟

    غیر رسمی خط کے اجزا: پتہ و تاریخ، القاب و آداب (پیارے بھائی/محترم والد)، خیریت و دعا، اصل مضمون، اختتامی دعائیہ کلمات، اور خط لکھنے والے کا نام شامل ہیں۔

  21. رسمی اور غیر رسمی خط میں بنیادی فرق کیا ہے؟

    رسمی خط سرکاری، دفتری یا کاروباری مقاصد کے لیے سنجیدہ اور مختصر زبان میں لکھا جاتا ہے، جبکہ غیر رسمی خط عزیز و اقارب کو محبت اور بے تکلفی کے انداز میں جذبات و حالات بیان کرنے کے لیے لکھا جاتا ہے۔

  22. درخواست کے بنیادی اجزا کیا ہیں؟

    درخواست کے اجزا: مکتوب الیہ کا عہدہ و پتہ (بخدمت جناب پرنسپل/ہیڈ ماسٹر)، عنوان/موضوع، آغازیہ (جنابِ عالی)، مدعا یا اصل بات، اختتامی کلمات (آپ کا تابعدار/فرماں بردار)، نام، جماعت اور تاریخ شامل ہیں۔

  23. درخواست میں اختتام پر طالب علم عموماً کیا لکھتا ہے؟

    طالب علم اختتام پر "آپ کا تابعدار/فرماں بردار شاگرد" لکھ کر اپنا نام، جماعت، رول نمبر اور تاریخ درج کرتا ہے۔

  24. مضمون نویسی میں مضمون کے تین بنیادی حصے کون سے ہیں؟

    مضمون کے تین بنیادی حصے ہیں: (1) تمہید یا آغاز، (2) اصل مضمون یا متن (جس میں موضوع کی تفصیل ہو)، اور (3) خاتمہ یا نتیجہ۔

  25. اچھے مضمون کی نمایاں خصوصیات کیا ہیں؟

    موضوع سے مطابقت، خیالات کا تسلسل و ربط، سادہ و رواں زبان، مناسب تقسیم (تمہید، متن، خاتمہ)، جامعیت، اشعار و اقوال کا برمحل استعمال، اور صحت زبان و املا اچھے مضمون کی خصوصیات ہیں۔

  26. مضمون کی تمہید کا مقصد کیا ہوتا ہے؟

    تمہید کا مقصد قاری کو موضوع سے متعارف کرانا، اس کی دلچسپی پیدا کرنا اور مضمون کے بنیادی نکتے کی طرف توجہ مبذول کرانا ہوتا ہے؛ یہ مضمون کا دروازہ ہے۔

  27. کہانی نویسی (افسانہ نگاری) میں کہانی کے بنیادی اجزا کیا ہیں؟

    کہانی کے بنیادی اجزا ہیں: پلاٹ (قصے کی ترتیب)، کردار، ماحول/منظر نگاری، مکالمہ، نقطۂ نظر، موضوع اور اختتام/نتیجہ۔

  28. پلاٹ کسے کہتے ہیں اور اس کے مراحل کیا ہیں؟

    پلاٹ کہانی کے واقعات کی منطقی اور باہم مربوط ترتیب کا نام ہے۔ اس کے مراحل ہیں: آغاز (ابتدا)، عروج (نقطۂ کشمکش/کلائمیکس) اور انجام (نتیجہ یا خاتمہ)۔

  29. افسانہ اور کہانی (ناول) میں بنیادی فرق کیا ہے؟

    افسانہ مختصر ہوتا ہے اور زندگی کے کسی ایک پہلو یا واحد تاثر پر مرکوز ہوتا ہے جس میں کردار اور واقعات محدود ہوتے ہیں؛ جبکہ ناول طویل ہوتا ہے، اس میں متعدد کردار، واقعات اور زندگی کے کئی پہلو تفصیل سے بیان ہوتے ہیں۔

  30. کہانی میں "کلائمیکس" یا نقطۂ عروج سے کیا مراد ہے؟

    کلائمیکس یا نقطۂ عروج کہانی کا وہ فیصلہ کن لمحہ ہے جہاں کشمکش اپنی انتہا کو پہنچتی ہے اور قاری کا تجسس و دلچسپی عروج پر ہوتی ہے؛ اسی کے بعد کہانی انجام کی طرف بڑھتی ہے۔

FA Urdu (Compulsory) FAQ

What is in the FA Urdu (Compulsory) syllabus?

FA Urdu (Compulsory) is split into 4 chapters: نثر (Prose), نظم (Poetry), غزلیات and قواعد و انشاء. Together they contain 12 topics.

How many chapters are in FA Urdu (Compulsory)?

4 chapters, containing 12 topics. The largest chapter is قواعد و انشاء, with 4 topics.

Are there flashcards for FA Urdu (Compulsory)?

Yes — a 50-card Urdu (Compulsory) deck, printed in full in the flashcards section of this page and available in the Examius app with spaced repetition. The free plan covers one exam of your choice, including its flashcards; Examius Pro, a one-time purchase, unlocks every other exam and deck.